Book review of Tanqeehat.
Book Review
Of
Tanqeehat by Syed Maulana Maududi.
تعارف-
سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کی بے شمار تصانیف میں سے ایک ھے تنقیحات. یہ کتاب سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی اور مسلمانوں کے متعلق ایک ان کی فکر کا نتیجہ ہے.
اس کتاب میں انہوں نے مذہبی مسئلے ، انسانوں کی سوچ پر (خاص کر مسلمانوں کی )،ذہنوں پر مغربی بے حیائی اور تہذیب کے اثرات اور اس کے حل بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے. اس مجموعہ میں میں وه چھوٹے چھوٹے مضامین يكجا كر دیے گئے ہیں جو انہوں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم سے پیدا شدہ مسائل پر مختلف واقعات میں لکھے ہیں.
اہم نكات -
یا کتاب غیر اسلامی اثرات اور مسلمانوں کی کوتاہیوں پر تنقید بھی ہے اور غلط فہمی کے حقائق کی تنقیح بھی . یہ کتاب ایک بہتر آئینہ ہے آج بھی ہمارے لئے چونکی جو عملی اور علمی مسائل آج کل شب و روز پیدا ہو رہے ہیں ، ان کو حل کرنے کے لئے سب سے مقدم ضرورت ہے کہ لوگ ان کو صحیح روشنی میں دیکھیں اور خود ان کی اپنی بصیرت رنگین نا رہے.
اس کتاب میں مولانا مودودی نے بہت ہی خوبصورتی سے بہت سارے ہمارے عام مسائل اور ان کے حل کو بیان کیے ہیں ،جیسے ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب، دور جدید کی بیمار قومیں، مغربی تہذیب کے خودکشی وغیرہ۔ اس کے علاوہ انہوں نے خلافت عثمانیہ کی کشمکش کو بھی بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس وقت کی انگریز دشمن لوڈ لوتھین ا کے خطبے کو بیان کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے لیے ایک سبق بتایا ہے۔ جس سے ہمیں یہ جانکاری حاصل ہوتی ہے کی " ہم جس تہذیب کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں اسے اپنانے کے خواہش مند ہیں دراصل یہ مغربی علوم اور انکی پیدا کردہ تہذیب نری تریاق ہی تریاق نہیں ہے بلکہ اس میں بہت کچھ زہر بھی ملا ہوا ہے اور سب سے اہم اسے بیان کرنے والا خود اسی ماحول کا باشندہ ہے "- اس کے ساتھ ہیں مولانا مودودی نے اپنی تصانیف ترجمان القرآن پر کیے گئے حضرت نیاز فتح پوری کے تبصرے کو بہت ہی خوش دلی کے ساتھ قبول کیا اور اس پر عمل کرنے کی بھی سوچی -
اس مصحف میں مولانا نے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ آزادی کے وقت " مسلمان کیوں ایسی تعلیم گاہ کی ضرورت تھی جہاں ان کی دینی تربیت بہتر طریقے سے ہوسکے نہ کی ایسی یونیورسٹی کی جو جدید تعلیم فراہم کرائیں جیسے علی گڑھ یونیورسٹی کیونکہ جدید تعلیم فراہم کرانے کے بہت سی یونیورسٹی موجود تھى، ضرورت تھی تو مسلمان نوجوانوں کی روحانی اور دینی ی تربیت کرنے کی "-
اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ" اصلاح کی صحیح صورت بس یہی ہے کہ ٹھنڈے دل سے خرابیوں کے اسباب اور ان کے حدود کو تلاش کیجئے اور حکمت کے ساتھ انکو خوبیوں سے بدل دیجئے"-
اس کے علاوہ انہوں نے بغاوت کا ظہور طور پر روشنی ڈالتے ہوئے بہت ہی اچھے سے بتایا ہے کی عوام دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جو صرف بنی بنائے راستوں پر چلتی ہیں اور بنے ہوئے قانون کو مانتے ہیں ہیں اور دوسری وہ عوام جو تعداد میں تو کم ہوتی ہے مگر ملک کو وہی چلاتے ہیں یہ لوگ دراصل خواص ہوتے ہیں۔" جب کبھی کسی قوم کی بہتری کے دن آتے ہیں تو ان میں ایسے خواص پیدا ہوتے ہیں جو خود راہ راست پر چلتے اور پوری قوم کو اس پر چلاتے ہیں"- وجعلناهم ائمه يخدون بامرنا واوحينا اليهم فعل الخيرات اور" جب کسی قوم کی تباہی کا زمانہ آتا ہے تو اس کی بگاڑ کے ابتدا اس کے خواص سے ہی ہوتی ہے جن کی گمراہی اور فساد اخلاق سے آخر کا ساری قوم ضلالت اور بد غملیو میں مبتلا ہو جاتی ہے"-
آ گے انہوں نے بتایا ہے کہ کسی بھی قوم کی بربادی ان کی "اجتماعى فساد" کی وجہ سے ہوتی ہے ہمارا رب ظالم نہیں ہے کہ اپنے بندوں پر ظلم کرے اور آسمانی عذاب نازل کرے اسکے دليل میں انہوں نے بنی اسرائیل کی تباہی کا ذکر قرآنی آیات کے ساتھ کیا ہے ( سورہ المائدہ ) -
ساتھ ہی انہوں نے ایمان اور اطاعت پر توجہ دلاتے ہوئے بتایا ہے کہ مسلمان قوم میں ایسی کون سی نفاق اور بد عقیدگی نہیں ہیں جس کا انسان تصور کر سکتا ہو-اس کے نظام میں بھی وہ لوگ شامل ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات تك سے ناواقف ہے اور اب تک جاہلیت کے عقائد پر جمے ہوئے ہیں- انمیں وہ بھی ہیں جو اسلامی اساسی اصولوں لو میں شک رکھتے ہیں اور شکوک کی اعلانیہ تبلیغ کرتے ہیں اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جو خدا اور رسول کی تعلیمات کے مقابلے میں کفار سے حاصل کئے ہوئے تخيلات و افکار کو ترجیح دیتے ہیں-
آگے انہوں نے مسلمانوں کا حقیقی مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر افسوس جتایا ہے یہ کیسے ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی مسلمان کے مفہوم کی روحانیت سے واقف نہیں ہے - مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لیے انہوں نے چند آیت قرآن کا سہارہ لیا ہے مثلا سورۃ النجم ،سورۃ الغاشیہ، سورۃ القصص، سورۃ المائدہ، سورۃ البقرہ ، سورۃ الانعام ،ساتھ ہی انہوں نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ ہم پر لفظ مسلمان کا اطلاق کس حد تک ہوتا ہے اور جس طریقہ پر ہم چل رہے ہیں اس کو اسلام سے تعبیر کرنا کہاں تک درست ہے ؟
آگے مسلمانوں کی طاقت کا اصلی بلنع کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کے سنہرے ماضی کو دہراتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلے مٹھی بھر مسلمان نے کتنی ساری فتوحات حاصل کیے ہیں مسلمان تو وہ ہیں جنہوں نے اپنی کشتیاں جلا کر بھی جنگ میں فتح حاصل کی ہے ہیں اور لوگوں کو انصاف دلایا مگر آج جہاں بھی اچھے خاصے تعداد میں مسلمان موجود ہیں وہاں اب بھی ہے کفر اور شرک موجود ہے-
آخر میں مسلمانوں کے لئے جدید تعلیمی پالیسی اور لائحہ عمل اور مرض اور اس کا علاج، پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام محض ایک عقیدہ نہیں ہے ، نہ یہ محض چند مذہبی اعمال اور رسموں کا مجموعہ ہے بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک مفصل اسکیم ہے - اس میں عقائد، عبادات اور عملی زندگی کے اصول و قواعد الگ- الگ چیزیں نہیں ہے بلکہ سب مل کرایک ناقابل تقسیم مجموعہ بناتے ہیں جس کے اجزا کا باہمی ربط بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ زندہ جسم کے اعضاء میں ہوتا ہے - پھر اسے اور اچھی طرح سمجھآنے کے لیے بے حد ہی معصومانہ انداز میں ایک سوال کیا ہے-
" آپ کسی زندہ آدمی کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں، آنکھیں، کان اور زبان جدا کردیں، معدہ اورجگر نکال دیں،پھیپھڑے اور گردے الگ الگ كردیں، دماغ بھی پورا يا کچھ کم و بیش جس کا ستہ سر سے خارج کردیں اور بس ایک دل اس کے سینے میں رہنے دیں- كيا یه باقی ماندہ حصہ جسم منده ره سکے گا اور اگر زندہ بھی رہے تو کیا وہ کسی کام کا ہوگا ؟
ایسا ہی حال اسلام کا بھی ہے - عقائد اس کا قلب ہے، و طریقہ فکرattitude of mind،نظرحیات view of life، مقصد زندگی اور معیار قدرstandard of values جو ان عقائد سے پیدا ہوتا ہے اس کا دماغ ہے" - عبادت اس کے جوارح اور قوام ہیں ،جن کے بل پر وہ کھڑا ہوتا ہے اور کام کرتا ہے-
اس کو صحیح و سالم آنکھوں کی اور بے عیب كانون کی ضرورت ہے تاکہ وہ زمانے کے احوال و ظروف كى ٹھیک کی رپورٹ دماغ تک پہنچائیں اور دماغ ان کے متعلق صحیح حكم لگائے- اس پورے نظام میں ا گر چہ قلب ( يعنى عقیدہ) بہت اہمیت رکھتا ہے مگر اس کی اہمیت اس لیے ہے تو هے کہ وہ تمام اعضا و جوارح کو زندگی کی طاقت بخشتا ہے- حالانكه اکیلا قلب تھوڑے بہت ، بچے كھچے، خستہ و بیمار، اعضاء کے ساتھ کیسے زندہ رہ سکتا ہے ؟ اگر زندہ ب بھی ہےتو اسکی زندگی کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟
تھیک ایسے ہی مسلمانوں کا حال بھی ہے -
اس طرح مولانا مودودی نے بہت ساری چیلنج اور برائیوں سے بچنے کی تدابیر بتانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جاہلی نیند سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے- بلاشبہ یہ بہت ہی مفید اور اچھی تصنیف ہے ہم سب کو ضرور ایک بار اس کا مطالعہ کرنا چاہئے تا کہ جدید مغربی برای سے خود کو سکیں اور ساتھ ہی اسلام کی تعلیم کو اپنی زندگی میں استعمال کر سکیں - ~ ختم شده
ناز.
Comments
Post a Comment