Book review of Salamati ka Rasta

         " Salamati ka Rasta "

                     by

          Maulana Maudodi

 Introduction -

اس کتاب کے لکھنے والے مولانا سید ابوالاعلی مودودی ہے۔انہوں نے یہ خطبا پنجاب کے ایک مسلم اور غیر مسلم کے مجلس میں دیا تھا ۔جسے آگے چل کر کتاب کی شکل دے دی گئی ۔ اس کتاب میں مولانا نے کی ساری مثالوں کے زریعے اور بہتر انداز میں یہ بتایا ہے کہ اس کائنات کی حقیقت کیا ہے اور اس میں انسان کی حیثیت کیا ہے. 

شروعاتی صفوں میں مولانا نے کی سارے مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح ایک چھوٹی سے اشیاء مثلا ایک قلم خود بخود نہیں بن سکتی تو اتنے وسیع اور کائنات کی تخلیق بھی خود سے نہیں ہوسکتی اسے بھی تعمیر کیا گیا ہے کسی نے بنایا ہے یہ خود وجود میں نہیں آئی ہے جس طرح ایک مکان اور گھر خود نہیں تعمیر ہوسکتے۔ 

Review -

 اس کتاب میں مولانا نے توحید کے تصور کو بیان کیا ہے ہے کی مثالیں دیتے ہوئے مثلا جس طرح اسکول کا نظام بہتر اور مسلسل چلتے رہنے کے لئے صرف ایک ہی ہیڈ ماسٹر کی  موجودگی ضروری ہے ویسی ہی ہماری پوری کائنات جو بنا اوکے مسلسل کھڑی کے کانٹوں کی طرح چلتی رہتی ہے اس کو تخلیق کرنے والا وجود میں لانے والا بھی ایک واحد ہے، اس پوری کائنات کا مالک اور خالق وہی خدا ہے۔ 

اس کتاب میں مولانا نے آگے انسان کی پریشانیوں کا سبب بتایا ہے کہ  اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی زندگیوں کو حقیقت کے خلاف بنا دیا ہے۔ اس کی بہترین مثال مولانا نے یہ دی ہے کہ  انسان نے چلتی ریل کے دروازے کو اپنے گھر کا دروازہ سمجھ کر اس طرح بلا جھجھک باہر قدم کر رکھا ہے  جس طرح وہ اپنے گھر کے بالکنی میں قدم رکھ رہا ہو اور اس کا انجام ہم سب تصور کر سکتے ہیں۔

آگے اس مصحف میں مولانا نے انسان کی حیثیت کو دنیا میں ایک غلام اور نوکر کی مثال سے بتایا ہے جس کے پاس اپنے مالک کے حکم سننے کے علاوہ آپ نے کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ آ گے انہوں نے بتایا ہے کہ لوگوں کی پریشانیوں کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کے قانون کو چھوڑ کر کر انسان کے قانون کو قبول کر لیا ہے ہے اسے انہوں نے یہ گاڑی کی مثال کے ذریعہ بتایا ہے۔ دوسری وجہ  انھوں نے انسان کی پریشانی کی نابرابری سلوک کو بتایا ہے ہے سب کو برابر کا حق ہے ہر انسان کا برابر حق ہے صرف اللہ میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ ہر انسانوں کو برابر کا حق فراہم کرتا ہے انسان فطرتا کمزور ہے۔ مولانا نصاب بتایا ہے جہاں کہیں بھی انسانوں نے اپنا قانون اور نظام قائم کیا ہے وہاں بربادی ضرور ہوئی ہے ہے ۔ آگے مولانا نے ایک اہم اور ضروری بات بتائی ہے کہ انسان کو جو چیز قابو میں کر سکتی ہے وہ احساس ذمہ داری۔ 

خطبہ ختم کرتے ہوئے مولانا نے ایک شک و شبہ کو دور کیا ہے کی کی ایسا شخص جس نے اللہ کی نافرمانی کی اللہ کی بغاوت کرتے ہوئے اپنی بادشاہت کا اعلان کیا تو اللہ جو پوری کائنات کا بادشاہ ہے پورا نظام کائنات اس کے ماتحت ہے تو ایسے لوگوں کو سزا کیوں نہیں دیتا تو اس کے جواب میں مولانا نے بتایا ہے کہ  خدا کا قانون ن ہے کی اپنے بندوں کو فورا سزا نہیں دیتا بلکہ ان کو ایک مدت تک ڈھیل دے کر اسے  ازماتا ہے۔ 

ختم شدہ۔

Comments

Popular Posts